تازہ ترین

عالمی معیشت کی معیاری ترقی کے لیے چین کا کھلے پن کی وسعت کا اعلان : سی آر آئی کا تبصرہ

جی ٹوینٹی کی چودہویں سمٹ اٹھائیس تاریخ کو جاپان کے شہر اساکا میں منعقد ہوئی ۔ چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں مختلف فریقوں سے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر عالمی معیشت کی اعلی معیاری ترقی کے لیے تعاون کی اپیل کی ۔ انہوں نے چین میں عنقریب اپنی منڈی کو مزید کھولنے کے حوالے سے پانچ نکاتی اقدامات کا اعلان کیا ۔

چینی صدر مملکت شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ ان اقدامات کے مطابق دو ہزار انیس کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی رسائی کی منفی فہرست جاری کی جائے گی ۔ پہل کر کے درآمدات کو توسیع دی جائے گی اور ٹیرف میں کمی کی جائے گی ۔ تجارتی ماحول کو بہتر بنایا جائے گا ۔ چینی و بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ برابری کا سلوک اختیار کیا جاٗے گااور دوسرے ممالک کے ساتھ اقتصادی و تجارتی مذاکرات کو آگے بڑھایاجائے گا ۔ اس وقت تجارتی تحفظ پسندی اور یک طرفہ پسندی عالمی سطح پر پھیل رہی ہے ۔ اس تناظر میں چین نے جی ٹوینٹی کی سمٹ میں کھلے پن اور تعاون کا جھنڈا لہراتے ہوئے عالمی معیشت کو مثبت اشارہ دیا ہے اور چین عالمی منڈی کے اعتماد کو بڑھاتے ہوئے مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے امید لے کر آیا ہے ۔

گزشتہ ایک سال سے زائد کے عرصے کے دوران امریکہ کی جانب سے شروع کی جانے والی تجارتی کشمکش کے سامنے چین نے کھلے پن کی وسعت کے لیے سلسلہ وار اقدامات اختیار کئے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں چین کی معیشت مستحکم طور پر ترقی کر رہی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھلا پن معیشت کی صحت مندانہ ترقی کیلیےلازمی راستہ ہے ۔

اس وقت نئی و جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال نے تمام ممالک کی معیشت کی ترقی کے لیے اہم موقع فراہم کیا ہے ۔ عالمی معیشت اعلی معیاری ترقی کے مرحلے سے گزر رہی ہے ۔ ایسے وقت پر اگر کوئی تحفظ پسندی اور یک طرفہ پسندی کی پالیسی اپناتے ہوئے عالمی تجارتی کشمکش میں مصروف رہتا ہے تو اس سے اسکی اپنی ترقی کے موقع کوبھی نقصان پہنچے گا اوریہ طرزعمل عالمی معیشت کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنے گا ۔

دنیا توقع رکھتی ہے کہ مختلف ممالک کے رہنما معاشی ترقی کے لیے معقول انتخاب کریں اور تعاون کر کے مشترکہ کوشش کریں ۔ چینی صدر مملکت نے موجودہ سمٹ میں تجاویز پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جی ٹوینٹی اصلاحات کے ذریعے مشکلات پر قابو پاتے ہوئے تعاون کے ذریعے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرے ۔ چین نے کھلے پن کے اقدامات اختیار کئے ، اپنے تجربات کو دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کیا اور ترقی کا موقع فراہم کیا ۔ لوگ توقع کر رہے ہیں کہ اساکا سمٹ کثیرالطرفہ ، بین الاقوامی نظام اور آزاد تجارتی نظام کے تحفظ کا واضح سگنل پیش کرے گااور عالمی معیشت کی اعلی معیاری ترقی کے لیے مشترکہ کوشش کرے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

عالمی معیشت میں بہتری میں چین کا نمایاں کردار: جانیئے تجزیہ کار مخدوم بابر کی زبانی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons