جی ٹوئنٹی اوساکا سمٹ اختتام پذیر

جی ٹونئٹی کی چودھویں سمٹ انتیس جون کو جاپان کے شہر اوساکا میں اختتام پذیر ہوا۔ سمٹ میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ جس کے مطابق جی ٹوئنٹی آزاد، منصفانہ ، غیر جانب دارانہ ، صاف شفاف، قابلِ پیش گوئی اور مستحکم تجارتی و سرمایہ کارانہ ماحول کی تشکیل کے لیے کوشش کرتی رہے گی۔

دوروزہ سمٹ میں جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی معیشت میں استحکام کا رحجان نظر آرہا ہے اور رواں سال سے دو ہزار بیس تک اس میں مستحکم طور پر اضافے کی توقع ہے۔ تاہم اقتصادی اضافے میں تنزلی کا خطرہ بدستور موجود ہے اور تجارتی و جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔

اعلامیے میں واضح طور پر یہ بات کہی گئی کہ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری اقتصادی اضافے ، پیداوار، جدت کاری ، روزگار اور ترقی کا اہم انجن ہے۔ مختلف فریق آزادانہ،منصفانہ ، غیرجانب دارانہ ، صاف شفاف ، قابلِ پیش گوئی اور مستحکم تجارت و سرمایہ کاری کے ماحول کی تشکیل کے لیے کوشش جاری رکھیں گے اور منڈی کی کھلے پن کو برقرار رکھا جائے گا۔

اعلامیے میں عالمی تجارتی تنظیم کی لازمی اصلاحات کی حمایت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں ترقی پذیر ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیےکی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

نیز اس بات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے پیرس معاہدے پر دستخط کرنے والے جی ٹونئٹی کے اراکین نے اس سمٹ کے دوران پیرس معاہدے پر سنجیدگی سے عمل درآمد کا اعادہ کیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس

مقامی وقت کے مطابق 8 تاریخ کو اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مشن کی …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons