تازہ ترین
احمد ندیم قاسمی کی تیرہویں برسی ...

احمد ندیم قاسمی کی تیرہویں برسی …

اردو ادب کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کی تلخیوں کو لفظوں کا پیرہن دینے والے احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو پنجاب کے علاقے خوشاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام احمد شاہ تھا اور ندیم ان کا تخلص تھا۔ 1939 میں ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ چوپال شائع ہوا۔ احمد ندیم قاسمی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ تیرہ اور چودہ اگست 1947 کی درمیانی شب انہی کا لکھا ہوا اولین قومی نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے انھوں نے قاسمی کہانی، گھر سے گھر تک سمیت متعدد معروف ڈرامے تحریر کئے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار اور صحافی تھے، انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تحریر کیں اور ان کی شاعری کے بارہ مجموعے منظرِ عام پر آئے انیس سو باسٹھ میں ان کی ایک مشہور ہونے والی نظم کے چند مصرعے کچھ یوں ہیں۔

ریت سے بت نہ بنا اے مِرے اچھے فنکار
ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں
میں تیرے سامنے انبار لگا دوں
لیکن کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا

انہیں اردو ادب کے لئے خدمات پر 1968 میں تمغہ حسنِ کارکردگی اور 1980 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ اردو ادب کی یہ ہمہ جہت شخصیت دس جولائی دو ہزار چھ کو اس دنیا سے رخصت ہو گئی لیکن اپنی تخلیقات کی صورت میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

یہ خبر پڑھیئے

نوجوان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں، ائیرکوموڈور ریٹائرڈ خالد بنوری

سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے محکمہ برائے تخفیف اسلحہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل ائیر کوموڈور ریٹائرڈ …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons