پچاس سے زائد ممالک کی جانب سے چین کی سنکیانگ سے متعلق پالیسی کی حمایت

پچاس سے زائد ممالک کی جانب سے چین کی سنکیانگ سے متعلق پالیسی کی حمایت

اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے چوبیس رکن ممالک نے سنکیانگ میں نافذ نظام اور اس حوالے سے چین کی پالیسی پر مشترکہ طور پر تنقید کی۔ تاہم حال ہی میں پچاس سے زائد ممالک کے سفیروں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے چیرمین اور انسانی حقوق کے لئے اعلیٰ کمشنر کو مشترکہ طور پر ایک خط لکھا جس میں انہوں نے سنکیانگ کے حوالے سے چین کے موقف کی حمایت کی۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہواہ چھون ینگ نے انتیس تاریخ کو منعقدہ رسمی پریس کانفرنس میں اس حوالے سے کہا کہ مذکورہ سارے چوبیس ممالک مغربی ترقی یافتہ ممالک ہیں جن میں سے کوئی ترقی پذیر ملک نہیں اور نہ ہی ان میں کوئی مسلم ملک ہے۔ دوسری طرف حمایت کرنے والے پچاس سےزائد ممالک میں سے اٹھائیس ممالک کا تعلق اسلامی تعاون تنظیم سے ہے۔ ان پچاس سے زائد ممالک ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور یورپ میں واقع ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ سنکیانگ کےمعاملے پر کون انصاف کرسکتاہے۔
چینی ترجمان ہواہ چھون ینگ نے کہا کہ اس وقت سنکیانگ کے اندر تصفیہ طلب امور انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہیں۔سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے میں قانون کے مطابق تعلیمی تربیتی مراکز کے قیام سمیت انسداد دہشت گردی کے لئے سلسلہ وار اقدامات کی وجہ سے سنکیانگ کی سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے اور گزشہ تین سالوں کے دوران یہاں کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ چین ان چوبیس ممالک کے متعلقہ افراد اورعہدے داروں کو سنکیانگ کے دورے کی دعوت دیتاہے اور انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے تجربات سیکھنے کے لیے ان کاخیرمقدم کرے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس

مقامی وقت کے مطابق 8 تاریخ کو اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مشن کی …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons