تازہ ترین
چینی معیشت کی ترقی کی بھر پور قوت، سی آر آئی تبصرہ

چینی معیشت کی ترقی کی بھر پور قوت، سی آر آئی تبصرہ

چینی معیشت کی ترقی کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیچیدہ اور شدید بیرونی ماحول کے باوجود، چینی معیشت کی نئی قوت محرکہ بھر پور ہے جو چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور مستقبل کی معیشت کی اعلی معیار کی ترقی کے لیے انتہائی اہم کردار کی حامل ہے۔

سی آر آئی تبصرہ نگار نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی حیثیت سے ، چین تکنیکی صنعت کی انقلاب کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو “مینوفیکچرنگ پاور” سے “مینوفیکچرنگ کے طاقتور پاور” میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، چین اب محض معاشی نمو کی رفتار کا پیچھا نہیں کررہا ، بلکہ زیادہ موثر ، زیادہ معقول معاشی ڈھانچے ، اور زیادہ پائیدار ترقی کی تلاش میں ہے۔ ان میں ، نئی حرکیاتی توانائی کی پرورش اور مسلسل جدت اعلی معیار کی ترقی کے حصول کے لیے کلید ی حیثیت کے حامل ہیں۔

ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ 2019 کے عالمی انوویشن انڈیکس میں ، چین 14 ویں نمبر پر آگیا اور پیٹنٹ کی تعداد ، بینیفٹ ماڈل ، اصل برانڈز اور صنعتی ڈیزائن ، ہائی ٹیک اور جدید مصنوعات کی برآمدات وغیرہ کی تعداد کے لحاظ سے چین دنیا بھر میں پیش پیش رہا ۔ابھرتی ہوئی ٹکنالوجی کمپنیوں کی تعداد میں تیزی سےاضافہ ہورہا ہے۔

چینی مواصلاتی کمپنی ہوا وے نے گزشتہ سال 5،400 سے زیادہ بین الاقوامی پیٹنٹ درخواستیں پیش کیں ، جو عالمی کمپنیوں میں پہلے نمبر پر ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اپنا تخلیق کردہ آپریٹنگ سسٹم “ہونگ منگ” باضابطہ طور پر جاری کیا جو چینی کمپنیوں کی مضبوط ایجادات اور مسابقت کی طاقت کا مظہر ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ مغرب میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ چین کی معیشت میں تبدیلی آرہی ہے اور نئی حرکیات بڑھ رہی ہے۔ وہ اکثر جھوٹ بولتے ہیں : جب چین کی معاشی نمو مضبوط ہوتی ہے تو وہ ” چین ایک خطرہ” کی آواز بلند کرتے ہیں اور جب چینی معیشت معقول حدود میں چلتی ہے تو وہ افواہ پھیلاتے ہیں کہ چینی معیشت کو تباہی کا سامنا ہے ۔ ان کی یہ باتیں نہ صرف معاشی ترقی کے اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ جان بوجھ کر چین کو بدنام کرنے کے مترادف بھی ہیں۔

تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ ایک ایسا چین جو مستقل طور پر اعلی معیار کی ترقی کے راستے پر گامزن ہے، زیادہ طاقت پیدا کرے گا اور دنیا کے لئے مزید مواقع پیدا کرے گا۔جبکہ تجارتی جنگ شروع کرنے والےاپنی یکطرفہ پسندی اور تحفظ پسندانہ رویے کی بھاری قیمت ادا کریں گے۔

یہ خبر پڑھیئے

تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر صحت آنوتین چرنویراکل کا سی ایم جی کوانٹرویو

تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر صحت  آنوتین چرنویراکل  نے چائنا میڈیا گروپ کو …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons