نام نہاد “ویغور خصوصی عدالت” بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، سنگیانگ سے متعلقہ امور پر پریس کانفرنس

نو ستمبر کو چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی عوامی حکومت کی جانب سے سنکیانگ سے متعلقہ امور پر 54 ویں پریس کانفرنس بیجنگ میں منعقد ہوئی،

جس میں نام نہاد ” ویغور خصوصی عدالت” کی دوسری سماعت کے حوالے سے بیان جاری کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ نام نہاد” ویغور خصوصی عدالت” امریکہ ، مغرب اور مشرقی ترکستان موومنٹ کی جانب سے قائم  کی گئی ہے۔ چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی عوامی حکومت  کے ترجمان شو گوئی شیانگ نے کہا کہ اس عدالت کی کوئی قانونی حیثیت یا ساکھ نہیں ہے اور نہ ہی اسے کسی سماعت کا کوئی حق ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ قانونی لحاظ سے یہ”عدالت” بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی فوجداری انصاف کے کنونشن سے مطابقت نہیں رکھتی ، بین الاقوامی قوانین میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور اسے “سماعت” کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ فنڈنگ ​​کے ماخذ کے لحاظ سے، یہ “عدالت” بنیادی طور پر “ورلڈ ویغور کونسل”کی جانب سے فراہم کردہ مالی امداد پر انحصار کرتی ہے۔ آپریٹنگ طریقوں کے لحاظ سے ، یہ “عدالت” پہلے جرم کا قیاس کرتی ہے ، اور پھر ثبوت تلاش کرتی ہے۔

یہ “عدالت “چین مخالف چند نام نہاد دانشوروں، وکلائ اور “اداکاروں” کا ایک گروہ ہے جو جھوٹ بول بول کر دنیا کو دھوکا دے رہا ہے۔اس “عدالت” کا مقصد سنکیانگ کی شفاف تصویر کو داغدار کرنا ہے۔ یہ”عدالت” سنکیانگ کے بہانے چین کے  داخلی امور میں مداخلت ہے۔یہ مکمل طور پر امریکہ اور مغرب میں موجود چین مخالف قوتوں کے سیاسی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس

مقامی وقت کے مطابق 8 تاریخ کو اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مشن کی …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons