صدر مملکت سے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد کی ملاقات

صدر مملکت سے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد کی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تاجروں اور صنعتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین اور معذور افراد کو اپنے اداروں میں ملازمت دے کر ان کی مالی شمولیت اور بااختیار بنانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں، حکومت نے اپنا کاروبار کیلئے کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب روپے مختص کیے ہیں، نوجوانوں، خواتین اور خصوصی افراد کو قرضوں کے حصول میں سہولت اور رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے چیمبر کے صدر قیصر اقبال بریار کی قیادت میں جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔

وفد نے صدر کو سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی برآمدی صلاحیت اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اس کی شراکت کے بارے میں آگاہ کیا۔ قیصر اقبال بریار نے صدر مملکت کو سیالکوٹ کی تاجر برادری کو درپیش بعض مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے وفد کو یقین دلایا کہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل میں ضروری مدد فراہم کی جائے گی۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ افراد باہم معذوری ملکی آبادی کا 12 سے 14 فیصد ہیں اور انہیں کاروباری برادری کے خصوصی تعاون سے ہنر کی فراہمی کے ذریعے صاحب روزگار اور مالی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں ، خواتین اور افراد باہم معذوری کو بااختیار بنانے اور ان کی مالی شمولیت پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، اس سلسلے میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کرسکیں۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آگاہی کے فقدان کی وجہ سے لوگ حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے قرضوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے اور قرضوں کے حصول کے لیے ان کی سہولت اور رہنمائی کی ضرورت پر زور دیا۔

بعد ازاں راولپنڈی ، اسلام آباد اور اٹک چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی خواتین نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے بھی صدر مملکت سے ملاقات کی جس نے اکتوبر میں چھاتی کے کینسر کے بارے میں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

وفد نے چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم میں اپنے تعاون کی پیشکش کی اور صدر کو یقین دلایا کہ وہ این جی اوز ، خواتین یونیورسٹیوں و کالجوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے اس بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔

یہ خبر پڑھیئے

شو: ٹرینڈ سیٹر

شو: ٹرینڈ سیٹر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons