تازہ ترین

اشرف غنی کے خلاف 16 کروڑ ڈالر چوری کا الزام، ان کے ہی محافظ نے تصدیق کردی

سابق افغان صدر اشرف غنی کی سیکیورٹی عملے کے ایک سینئر رکن نے امریکا کی سرکاری ایجنسی کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس مبینہ چوری کے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ امریکی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق افغان صدر کابل سے فرار ہوتے وقت اپنے ساتھ 16 کروڑ 90 ڈالر لے گئے تھے۔

بریگیڈیئر جنرل پیراز عطا شریفی، جنہوں نے اشرف غنی کے محافظوں کی سربراہی کی تھی، نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے نہ صرف نقد رقم کے بھاری بیگ منتقل ہوتے دیکھے بلکہ ایک سی سی ٹی وی کیمرے سے ایک ویڈیو کلپ بھی حاصل کی۔ طالبان کو تفتیش کے لیے مطلوب عطا شریفی نے ڈیلی میل آن لائن کو افغانستان میں خفیہ مقام سے بتایا کہ ’میرا کام صدر کے آنے سے قبل وزارت میں پہرہ دینے والے سپاہیوں کو غیر مسلح کرنا تھا۔

واضح رہے کہ طالبان نے ان کی گرفتاری پر 10 لاکھ افغانی کرنسی کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم وہاں صدر کا انتظار کر رہے تھے تاہم پھر مجھے فون آیا کہ وزارت دفاع میں آنے کے بجائے صدر ایئرپورٹ پر چلے گئے، وزیر دفاع بھاگ چکے تھے اور میرے باس نے بھی ایسا ہی کیا اور اشرف غنی کے تمام قریبی خاندان کے افراد اور ساتھیوں نے بھی ایسا ہی کیا‘۔

عطا شریفی نے دعویٰ کیا کہ ’میرے پاس (محل سے) ایک (سی سی ٹی وی) ریکارڈنگ ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ افغان بینک کا ایک فرد اشرف غنی کے جانے سے پہلے بہت سارے پیسے لے کر آیا، کروڑوں، شاید اربوں ڈالر، بہت بڑے بیگ تھے اور وہ بھاری تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ مایوس تھے کیونکہ وہ اشرف غنی کو پسند کرتے تھے، یہ رقم کرنسی ایکسچینج مارکیٹ کے لیے تھی اور ہر جمعرات کو ڈالر اس مقصد کے لیے لائے جاتے تھے تاہم اس کے بجائے اسے صدر نے رکھ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اشرف غنی جانتے تھے کہ آخر کیا ہوگا چنانچہ انہوں نے سارے پیسے لیے اور فرار ہو گئے‘۔

تاہم اشرف غنی نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ چار کاروں اور 169 ملین ڈالر سے بھرے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کابل سے روانہ ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خونریزی سے بچنے کے لیے انہوں نے افغانستان چھوڑ دیا، ان کی اچانک روانگی نے طالبان کو امریکی فوج کے انخلا سے دو ہفتے قبل کابل پر قبضہ کرنے کے قابل بنایا۔

رواں ہفتے کے آغاز میں افغانستان میں امدادی رقم کے غلط استعمال کی تحقیقات کے انچارج امریکی حکومت کے انسپکٹر جنرل نے کانگریس کو بتایا کہ وہ اس دعوے کو ’دیکھ رہے ہیں‘ کہ اشرف غنی اور ان کے ساتھیوں نے فرار ہونے سے قبل لاکھوں ڈالر چوری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا ہے، ہم اس پر غور کر رہے ہیں، یہ الزامات ہیں نہ صرف صدر اشرف غنی پر بلکہ ان کی وزارت خزانہ، ان کے مرکزی بینک اور کئی دیگر وزارتوں کے سینئر عہدیداروں پر لاکھوں ڈالر لے جانے کے الزامات ہیں‘۔

گزشتہ مہینے وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جین ساکی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ابھی تک ان کے پاس اشرف غنی کے اس چوری میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے تاہم بائیڈن انتظامیہ اقوام متحدہ کو ان الزامات کی تحقیقات کرنے دے گی۔

یہ خبر پڑھیئے

پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے والوں کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا، مصدق ملک

اپریل تک روس سے تیل کی آمد کا آغاز ہوجائے گا وزیرمملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹرمصدق …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons