چینی صدر کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ورچوئل ملاقات

چینی صدر شی جن پھنگ نے پچیس تاریخ کو بیجنگ میں ویڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریئز سے ملاقات کی۔

اس موقع پر شی جن پھنگ نے کہا کہ آج اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نسشت کی بحالی کی پچاسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر چین کی جانب سے ایک یادگاری تقریب کے انعقاد میں جہاں چین کےعالمی ادارے کے ساتھ غیر معمولی سفرکا جائزہ لیا گیا ہے وہاں یہ ایک مزید روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے ایک نیا نقطہ آغاز بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ کوئی ملک چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ دوسرے ممالک کو کنٹرول کرنے کے لیے بالادستی کا سہارا نہیں لے سکتا ہے۔

علاقائی مسائل کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے، ہر ملک کےعوام کی رضا مندی کا احترام کرنا چاہیے اور سیاسی ذرائع سے مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم رہنا چاہیے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ گزشتہ پچاس برسوں میں اقوام متحدہ کے ساتھ  تعاون کی بدولت چین نے اہم سبق سیکھا ہے کہ ہمیشہ اقوام متحدہ کے نظریات پر قائم رہا جائے، غیرمتزلزل طور پر کثیرالجہتی کے راستے پر گامزن رہا جائے اور عالمی امن اور ترقی میں مخلصانہ طور پر کردار ادا کیا  جائے۔

چین اقوام متحدہ کے تحت دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے تاکہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ خبر پڑھیئے

افغان حکومت کا ڈالرز کی اسمگلنگ پر سخت سزاؤں کا اعلان

کہ پاکستان سے یومیہ 50 لاکھ ڈالرز افغانستان اسمگل کئے جارہے ہیں افغانستان کی عبوری …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons