وزیراعظم شہباز شریف سے ہاورڈ یونیورسٹی امریکہ کے طلباء کے وفد کی گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف سے ہاورڈ یونیورسٹی امریکہ کے طلباء کے وفد کی گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کو حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے لئے زراعت، صنعت اور آئی ٹی کے شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں، پاکستان اور چین ہر آزمائش پر پورا اترنے والے دوست ہیں، چین نے ہر بین الاقوامی فورم پر ہماری حمایت کی، سی پیک سے ہمارے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں، بھارت اور پاکستان دونوں ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم اپنی فوج پر سرحدوں کی حفاظت کے لیے خرچ کرتے ہیں جارحیت کے لیے نہیں، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا بھارت اور پاکستان دونوں کے عوام امن کے ثمرات سے مستفید نہیں ہو سکتے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کے طلباء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے جمعہ کو یہاں اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔ وفاقی وزراء احسن اقبال، مریم اورنگزیب، معاونین خصوصی احد چیمہ، سید فہد حسین، جہانزیب خان، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایچ ای سی رانا احسان افضل اور متعلقہ محکموں کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد میں مختلف قومیتوں اور تعلیمی پس منظر کے طلباء شامل تھے۔ وزیر اعظم نے طلباء کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کو درپیش عصری چیلنجوں کے بارے میں واضح گفتگو کی۔ وزیراعظم میڈیا آفس کے مطابق پاکستان کی معیشت اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا معاشی بحران حالیہ دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ڈھانچہ جاتی مسائل کی وجہ سے ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے پہلی چند دہائیوں میں معیشت کے تمام شعبوں میں متاثر کن ترقی دیکھنے میں آئی۔ ہمارے پاس نتائج حاصل کرنے کے لئے منصوبے، قومی عزم اور عمل درآمد کا طریقہ کار تھا۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے ان شعبوں میں برتری کھو دی جن میں ہم آگے تھے۔ توجہ، توانائی اور پالیسی ایکشن کا فقدان قومی پیداوار میں کمی کا باعث بنا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے تمام کوششیں اور وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں، یہ سب کرنا مشکل لیکن ضروری ہے، ہمیں بڑے مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے پائیدار پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ ان کے اقتصادی ایکشن پلان کے 3 پہلو ہیں جن میں معیشت کی بحالی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کا محور بنانا اور برآمدات پر مبنی معیشت شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے سابقہ ​​دور حکومت کی طرح اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے ہونہار طلباء کو مفت لیپ ٹاپ فراہم کرنے کے اپنے مستقبل کے پروگرام پر بھی روشنی ڈالی، جس سے نہ صرف طالب علموں کو کوویڈ 19 کے دوران اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کی بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی فری لانس مارکیٹ میں جگہ بنانے میں بھی مدد فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ہمیں پیشہ ورانہ، سائنسی اور ہنر پر مبنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ علم پر مبنی معیشت ہمارے دور کی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کی بہت بڑی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

یہ ہمارا عزم ہے کہ ہم اپنی آئی ٹی برآمدات کو موجودہ 2 بلین ڈالر سے بڑھا کر آنے والے سالوں میں 15 بلین ڈالر تک لے جائیں۔ وزیراعظم نے خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے حل سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے بھارت کے ساتھ مستقل امن چاہتے ہیں، جنگ کسی ایک ملک کے لیے بھی آپشن نہیں ہے۔ اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کو تجارت، معیشت اور اپنے لوگوں کے حالات بہتر بنانے میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جارح ملک نہیں ہے، لیکن ہمارے جوہری اثاثے اور پیشہ ورانہ تربیت یافتہ فوج ایک ڈیٹرنس ہے۔ وزیراعظم نے ملک میں سیاسی استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ معیشت کا دارومدار سیاسی استحکام پر ہے اس لیے انہوں نے بارہا گرینڈ ڈائیلاگ کی پیشکش کی ہے جس کی نمایاں بات چارٹر آف اکانومی ہے۔ پاک چین تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ چین، پاکستان ہر آزمائش پر پورا اترنے والے دوست ممالک ہیں اور سی پیک منصوبے سے ان کی دوستی نئی بلندیوں پر پہنچ گئی۔ چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، پاکستان سی پیک کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے، جو کہ علاقائی امن، سلامتی اور ترقی کے لیے فائدہ مند شراکت ہے، ہم دو طرفہ اور کثیر جہتی سطحوں پر پوری دنیا کے ساتھ مشغولیت کے خواہاں ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کیلئے ترقی یافتہ دنیا کی ذمہ داری کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا جو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہیں، پاکستان جو کاربن کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم شراکت دار ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پانچواں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ انہوں نے درآمدی ایندھن سے سولر، ونڈ اور ہائیڈل انرجی پر منتقلی کے حکومتی منصوبوں کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ پاکستان میں ان شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ طلباء نے پاکستان کی معیشت کی بہتری، خطے میں امن اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے وزیر اعظم کے ترقی پسندانہ انداز فکر کو سراہا۔ وفد نے اپنے دورے کے دوران پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے ان کی مہمان نوازی کی بھی تعریف کی۔

یہ خبر پڑھیئے

شو: ٹرینڈ سیٹر

شو: ٹرینڈ سیٹر

Show Buttons
Hide Buttons