سیلاب کے سامنے چین اور پاکستان کی حقیقی دوستی کا عمدہ مظاہرہ

اس وقت پاکستان کو مون سون بارشوں کی وجہ سے شدید  سیلاب کا سامنا  ہے، جو  گزشتہ دس سالوں میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے، جس سے بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

سوات کے ضلع کالام  میں، ایک نیا  بلند و بالا ہوٹل پلک جھپکتے ہی سیلابی موجوں کی نذر ہو گیا ، اس کے علاوہ سڑکوں ،پلوں اور دیگر تعمیرات کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے  ۔ سیلاب کی خوفناک اور تباہ کن شدت نے پورے پاکستان کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے تناظر میں چین میں ایک مشہور  کہاوت ہے کہ ” قدرتی آفت محبت کے جذبے سے عاری ہوتی ہے لیکن انسانوں کے دل میں محبت ہوتی ہے۔ “۔چین میں ایک اور جملہ مقبول عام ہے کہ ” جب ایک جگہ مشکل پیدا ہوتی ہے تو ہر جانب سے امداد آتی ہے”۔ ایک جانب پاکستان ، ریسکیو کے لیے اپنی تمام قوتوں کو متحرک کر رہا ہے تو دوسری جانب چین نے ہمیشہ کی طرح بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فوری مدد کا ہاتھ  بڑھایا ہے۔ چین کے صدر شی جن پھنگ، وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ   اور وزیر خارجہ وانگ  ای نے اپنے الگ الگ  تعزیتی پیغامات میں سیلاب کے باعث نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے عملی اقدامات سے دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے لیے گہری تشویش اور قدرتی آفات جیسے بڑے چیلنجوں سے شانہ بشانہ نمٹنے کے عزم کا ثبوت دیا ہے۔ چین کی جانب سے فراہم کردہ امداد میں نہ صرف حکومتی ادارے شامل ہیں بلکہ نجی شعبہ بھی پیش پیش ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ایک مختصر فہرست ترتیب دی جا سکے۔ آل پاکستان چائنیز فنڈڈ انٹرپرائز ایسوسی ایشن نے پاکستان پرائم منسٹر فلڈ ریلیف فنڈ میں 15 ملین روپے کا عطیہ دیا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے  سماجی و عوامی معاش کے  تعاون فریم ورک کے تحت ، چین  نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں   کو  4000 خیمے، 50,000 کمبل اور 50,000 واٹر پروف ترپالیں فراہم کی ہیں۔  چین نے25 ہزار  ٹینٹ اور دیگر اشد نوعیت کے سامان  سمیت انسانی ہمدردی پر مبنی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چین کی ریڈ کراس سوسائٹی پاکستانی ریڈ کریسنٹ کو 300,000 امریکی ڈالر  کی ہنگامی نقد امداد فراہم کرے گی، جس سے ایک بار پھر دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں موجود چین پاک  مضبوط اور گہری  دوستی کی عکاسی ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ چاہے سیلاب سے لڑنے کا مرحلہ ہو  یا آفات کے بعد  تعمیر نو  ،چین کی  امداد آخری دم تک جاری رہے گی۔

چین میں ایک اور مشہور کہاوت ہے کہ “پانی کے ہر قطرے کا بدلہ چشمے کے بہنے سے ملے گا۔”اس کا مطلب یہ ہے کہ مشکل وقت میں دوسروں کی تھوڑی سی مدد کے بدلے ، انہیں کئی گنا زیادہ لوٹانا چاہیے۔ ہمیں یاد ہے کہ  2008 میں چین کے سی چھوان  کے ونچھوان علاقے میں  شدید زلزلہ آیا تھا۔ اس وقت پاکستان نےفوراً  مدد کا ہاتھ بڑھایا اور اپنے پاس موجود سارے کے سارے خیمے چین کے آفت زدہ علاقے کو بھیج دیے، ایسی دوستی کو چینی کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ اب چونکہ پاکستان شدید سیلاب کی زد میں ہے تو چینی عوام یقینی طور پر پاکستان کی مدد کریں گے، پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اور پاکستانی دوستوں کو  مشکلات پر قابو پانے اور اپنے گھروں کی تعمیر نو میں مدد فراہم کریں گے۔

پاکستان کو سیلاب سے نمٹنے کے لیے خود کو مضبوط کرنا ہو گا  ، کیونکہ آپ اکیلے نہیں لڑ رہے ہیں ، چین سمیت عالمی برادری کی جانب سے بڑی امداد آپ کے ساتھ  ہے۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے شدید سیلابی صورتحال پر پاکستانی صدر عارف علوی کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں کہا “مجھے یقین ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے آفت زدہ علاقوں کے لوگ سیلاب پر قابو پا سکیں گے، اور اپنے گھروں کی تعمیر نو  جلد از جلد  کریں گے ۔”

یہ خبر پڑھیئے

ریت پر قابو پانے والوں کی تیسری نسل سے تعلق رکھنے والا کارکن

ریت پر قابو پانے والوں کی تیسری نسل سے تعلق رکھنے والا کارکن

گو شی چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کی گو لانگ کاؤنٹی میں بابو سینڈ …

Show Buttons
Hide Buttons