تازہ ترین

امریکی حکام چین پر آبنائے تائیوان کی صورتحال پر حد سے زیادہ ردعمل کا الزام لگاتے ہیں، چینی وزارت خارجہ کا رد عمل

چین پر آبنائے تائیوان کی صورتحال پر حد سے زیادہ ردعمل کا الزام لگانے والے امریکی حکام کے متعلقہ ریمارکس کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کےترجمان چاؤلی جیان نے 31 تاریخ کو ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آبنائے تائیوان میں موجودہ صورت حال کی وجہ اور اس حوالے سے درست اور غلط ایک نظر میں واضح ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے چیف نائب ترجمان نے آبنائے تائیوان کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین کا ردعمل حد سے زیادہ اور اشتعال انگیز تھا جب کہ امریکہ کا ردعمل نپاتلا اور ذمہ دارانہ تھا۔ اس سلسلے میں، چاؤ لی جیان نے نشاندہی کی: “امریکہ نے پہلے اشتعال انگیزی کی اور چین کے جائز جوابی اقدامات بعد میں آئے، جو کہ معقول، قانونی، ضروری اور مناسب تھے۔

امریکہ نے ایک چین کے اصول  کی خلاف ورزی کی، چین کے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا اور  چین پر حد سے زیادہ رد عمل کا الزام لگایا۔ امریکہ بحری جہاز رانی کی آزادی کی آڑ میں چین کے ارد گرد کے پانیوں میں جنگی جہاز بھیج کر اکثر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن چین پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے۔ چین صحیح اور غلط کی اس ہیراپھیری کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی عالمی برادری قبول کرے گی۔”

یہ خبر پڑھیئے

نوجوان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں، ائیرکوموڈور ریٹائرڈ خالد بنوری

سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے محکمہ برائے تخفیف اسلحہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل ائیر کوموڈور ریٹائرڈ …

Show Buttons
Hide Buttons