دنیا امریکہ کے زوال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، امریکی میڈیا

حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ ہیمبرگ میں قائم بئو سیریس سمر اسکول آن گلوبل گورننس نے رواں سال ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جس کا موضوع”نئی حقیقتوں کا سامنا: عالمی گورننس دباو میں ہے” تھا، اس کانفرنس میں دنیا بھر سے درجنوں نوجوان رہنما شامل تھے، یہاں ایک  امریکی مبصر کو جس  حقیقت کا سامنا کرنا پڑا وہ یہ کہ  زیادہ تر دنیا کی نظروں میں، امریکہ کی چمک ماند پڑ چکی ہے ۔

کانفرنس کے بہت سے شرکاء کے لیے امریکہ ، جمہوری زوال اور غلط معلومات کی علامت ،حقائق  کو مسترد کرتے ہوئے مایوس شہریوں اور تیزی سے کھوکھلے ہوتے اداروں کا گھر ہے۔ 

امریکی ساکھ کم از کم دو دہائیوں سے خراب ہو تی آرہی ہے۔ 2016 کے انتخابات کے بعد، یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا تھا کہ دفاع اور سلامتی میں شراکت دار کے طور پر امریکہ پر مزید بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ حال ہی میں، اوہائیو سینیٹ کے امیدوار جے ڈی وینس کے  “مجھے آپ کے ساتھ ایماندار ہونا پڑے گا، مجھے واقعی پرواہ نہیں ہے کہ یوکرین میں کیا ہوتا ہے” جیسے بیانات ،  پوری دنیا میں ہر ایک تک پہنچ چکے ہیں ،جس سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہو  گئی ہے کہ امریکہ بدستور غیر مخلص ہے نیز وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اخلاقی قیادت سے دستبردار ہو رہا ہے۔

2008 میں، فرید زکریا نے لکھا: “ہم سیاسی اور عسکری طور پر”سنگل سپر پاور ورلڈ” میں رہتے ہیں۔ لیکن ہر دوسری جہت میں — صنعتی، مالی، تعلیمی، سماجی، ثقافتی حوالے سے— طاقت کی تقسیم منتقل ہو رہی ہے، امریکی تسلط سے دور ہٹ رہی ہے۔ ” 2022 میں، “امریکہ کے بعد کی دنیا” کا تصور، ایک نظریے سے حقیقت  بن گیا  ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

پابندیاں شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرگرمیوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اقوام متحدہ

شام کے لیےاقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے ملک میں آنے والے تباہ …

Show Buttons
Hide Buttons