تازہ ترین

چین نے صحرا میں اپنے سب سے بڑے شمسی توانائی کے بیس کیمپ پر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا

چین نے صحرا میں اپنے سب سے بڑے شمسی توانائی کے بیس کیمپ پر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا ہے

چین نے  شمال  مغربی خوداختیار علاقے Ningxia Hui کے شہر Zhongwei میں واقع  Tengger صحرا میں شمسی توانائی کے سب سے بڑے بیس پر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا ہے۔ چین کے اس صحرا کا مجموعی رقبہ 43 ہزار کلومیٹر پر محیط ہے، جو  چین کا چوتھا بڑا صحرا تصور کیا جاتا ہے۔

شمسی توانائی کے اس منصوبے  کے مکمل ہونے کے بعد تقریبا 5.78 ارب کلوواٹ سالانہ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے  جس سے 1.92میلین ٹن کوئلے کی بچت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً 4.66 ملین ٹن سالانہ کمی آئے گی۔ شمسی توانائی کے اس بڑے منصوبے کی تعمیر  پر  تقریبا 15.25 ارب یوآن لاگت آئے گی اور اس منصوبے سے 1.5ارب چینی یوآن  سالانہ آمدن متوقع ہے۔ منصوبے سے  ملک میں ایک ہزار 500  نئی ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے ۔

چین کے  قومی ترقی و اصلاحات کے ڈائریکٹر Lifeng نے رواں سال مارچ کے دوران قومی عوامی کانگریس کے اجلاس کے موقع پر بتایا تھا کہ چینی حکومت صحرائے گوبی میں 450 گیگا واٹ شمسی توانائی اور  ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول  کے منصوبے لگانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ملک 2030 تک اپنے کاربن کے اخراج کو چوٹی تک محدود کرنے اور 2060 تک کاربن  کی غیر جانبداری کیلئے پرعزم ہے۔

چینی صدر شی چن پھنگ نے سال 2020 کے دوران اقوام متحدہ کی جانب سے منعقدہ سمٹ میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سال 2030 تک ملک میں  شمسی اور  ہواکے ذریعے حاصل کی جانے والی توانائی کی مجموعی پیداوار کو  ایک ہزار 200 گیگا واٹ تک پہنچایا جائے گا۔ نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 کے آخر تک ملک نے 306 گیگا واٹ شمسی توانائی کی صلاحیت اور 328 گیگا واٹ ہوا کے ذریعے حاصل کرنے صلاحیت حاصل کرلی تھی-

یہ خبر پڑھیئے

نوجوان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں، ائیرکوموڈور ریٹائرڈ خالد بنوری

سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے محکمہ برائے تخفیف اسلحہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل ائیر کوموڈور ریٹائرڈ …

Show Buttons
Hide Buttons