تازہ ترین

امریکہ میں افراطِ زر اس کی اپنی غلط پالیسیوں کا نتیجہ

امریکی فیڈرل ریزرو  نےمارچ سے لے کر اب تک چوتھی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا ہے اور کل ملا کر 225 بیسس پوائنٹس بڑھائے گئے ہیں، تاہم امریکہ میں افراط رز کی شدت میں نمایاں کمی نظر نہیں آئی۔

ماہرین اقتصادیت نےنشاندہی کی ہے کہ امریکہ میں افراط زرامریکی حکومت کی سلسلہ وار اندرونی و بیرونی پالیسی کانتیجہ ہے۔ پہلا، امریکی حکومت نےماہرین کے خبردار کرنے کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑی مقدار میں ڈالر چھاپے اور انتہائی آسان مانیٹری پالیسی سے بڑی مقدار میں کرنسی گردش میں آئی جس سے افراط زر کو بڑھایا گیا۔ دوئم، امریکی حکومت کے آگ پر تیل ڈالنےسے روس-یوکرین تصادم پیدا ہوا، پھر روس پر پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے پوری دنیا میں توانائی، خوراک اور اجناس کی قیمت تیزی سے بڑھی۔

سوئم، امریکی حکومت کی جانب سے چین پر مسلط کی گئی تجارتی جنگ سے بھی افراط زر کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ چین امریکہ کا سب سے بڑا  اشیا فراہم کرنے والا ملک ہے۔ امریکہ کے بہت سے تحقیقاتی اداروں نے حساب لگایا تھا کہ اگر امریکہ چین پر عائد تمام اضافی محصولات کومنسوخ کرے، تو امریکہ کی شرح افراط زر میں ایک پرسنٹیج پوائنٹ کی کمی ہو سکتی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

نوجوان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں، ائیرکوموڈور ریٹائرڈ خالد بنوری

سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے محکمہ برائے تخفیف اسلحہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل ائیر کوموڈور ریٹائرڈ …

Show Buttons
Hide Buttons