تازہ ترین
سمرقند: چینی صدر شی چن پھنگ کا شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کی کونسل کے 22ویں اجلاس سے اہم خطاب

سمرقند: چینی صدر شی چن پھنگ کا شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کی کونسل کے 22ویں اجلاس سے اہم خطاب

ممبر ممالک نے “شنگھائی روح” پر عملدرآمد میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ، چینی صدر

چینی صدر شی چن پھنگ نے 16 ستمبر کو ازبکستان کے دارالحکومت سمرقند میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 22ویں اجلاس میں شرکت کی اور اہم خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور پر دستخط کی 20 ویں اور رکن ممالک کے درمیان طویل المدتی ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 15 ویں سالگرہ ہے۔ چینی صدر نے کہا کہ ان دونوں دستاویزات کو نظریاتی بنیاد اور لائحہ عمل تصور کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم نے بتدریج کامیابی کے ساتھ اہم اور کامیاب تجربات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  سیاسی باہمی اعتماد، باہمی تعاون، مساوی سلوک، کھلے پن اور جامعیت پر قائم رہنا، انصاف اور انصاف پر قائم رہنے کے پانچ تجربات باہمی اعتماد و فوائد، مساوات، مشاورت، متنوع تہذیبوں کے احترام اور مشترکہ ترقی کی تلاش میں “شنگھائی روح” کو مکمل طور پر قابل عمل بناتے ہیں۔ چینی صدر کے مطابق عملی طور پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ “شنگھائی روح” شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی اور نمو کیلئے بنیادی عنصر ہے اور ایسا بنیادی اصول بھی ہے جس پر شنگھائی تعاون تنظیم کو طویل عرصے تک عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبر ممالک نے ماضی میں “شنگھائی روح” پر عملدرآمد میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور مستقبل میں بھی “شنگھائی روح” کو برقرار رکھا جائے گا۔

دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہورہی ہے، چینی صدر

چینی صدر شی چن پھنگ نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت ایسی گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جنہیں ایک صدی میں بھی نہیں دیکھا جاسکا، جبکہ دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ازبکستان کے دارالحکومت سمرقند میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 22ویں اجلاس سے خطاب کے دوران  انہوں نے کہا کہ انسانی معاشرہ ایک دوراہے پر کھڑا ہے جسے بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی صورتحال کے تحت شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک میں بین الاقوامی اور علاقائی معاملات میں اہم تعمیری قوت کے طور پر بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال کا سامنا کرنے، موجودہ رجحان کو بہتر طور پر سمجھنے، یکجہتی اور تعاون کو مسلسل مضبوط کرنے اور ایک مضبوط تعمیر کو فروغ دینے کے علاوہ ایس سی او کی مضبوط کمیونٹی کے تحت مشترکہ مستقبل تشکیل دینے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔

ایس سی او کے ممبر ممالک کیلئے باہمی تعاون میں اضافہ بنیادی ضرورت ہے، چینی صدر

چینی صدر شی چن پھنگ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کیلئے سب سے پہلے باہمی تعاون میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سمرقند میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 22ویں اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ممبر ممالک اعلیٰ سطحی تبادلوں اور سٹریٹجک روابط کو مضبوط بنائیں، باہمی افہام و تفہیم اور سیاسی باہمی اعتماد کو گہرا کریں، سلامتی اور ترقی کے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک دوسرے کی کوششوں کی حمایت کریں، کسی بھی بہانے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مشترکہ مخالفت کریں اور ملک کے مستقبل کو اپنے زورِ بازو پر بہتر بنائیں۔

چینی صدر  نے کہا کہ دوسرے اصول کے تحت ممبر ممالک سلامتی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دیں۔ انہوں نے اس امر پر تمام فریقین کا خیرمقدم کیا کہ وہ عالمی سلامتی کے اقدام کے نفاذ میں حصہ لیں، مشترکہ اور جامع تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کو برقرار رکھیں اور ایک متوازن، مؤثر اور پائیدار حفاظتی ڈھانچے کی تعمیر کو فروغ دیں۔ شی چن پھنگ نے مزید کہا کہ بُری قوتوں یعنی منشیات کی اسمگلنگ، سائبر اور بین الاقوامی منظم جرائم، اہم معلومات کی حفاظت، حیاتیاتی حفاظت اور خلائی تحفظ جیسے غیر روایتی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے جواب دیں۔ چینی صدر نے کہا کہ چین آئندہ 5 سال کے دوران رکن ممالک کیلئے قانون نافذ کرنیوالے 2 ہزار افسران کو تربیت دینے، انسداد دہشتگردی سے منسلک افراد کیلئے چین-شنگھائی تعاون تنظیم کے تربیتی مرکز کے قیام اور تمام فریقین کی قانون کے نفاذ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کیلئے تیار ہے۔

چین ضرورت مند ترقی پذیر ممالک کو انسانی امداد فراہم کرے گا، چینی صدر

چینی صدر شی چن پھنگ نے ایس سی او کے ممبر ممالک کے درمیان عملی تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ازبکستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین خطے کی مضبوط اور پائیدار ترقی کے حصول میں سرگرم ممالک کی مدد کیلئے عالمی ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینے کی غرض سے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ چینی صدر نے کہا کہ بین الاقوامی توانائی کی حفاظت اور غذائی تحفظ کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اس سربراہی اجلاس میں منظور کئے گئے بیانات پر عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ضرورت مند ترقی پذیر ممالک کو 1.5 ارب یوآن مالیت کی خوراک اور دیگر ہنگامی انسانی امداد فراہم کرے گا۔ چینی صدر نے اس امر کو ضروری قرار دیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ترسیلات کے سلسلے کی بحالی، تکنیکی اختراع اور مصنوعی ذہانت وغیرہ کے شعبوں میں تعاون کی دستاویزات کو لاگو کیا جائے اور مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں اور علاقائی تعاون کے اقدامات کے تحت ایک پٹی ایک شاہراہ کی مشترکہ تعمیر کو مستحکم کرنے کا عمل جاری رکھا جائے۔ شی چن پھنگ نے کہا کہ چین آئندہ سال ، صنعتی سلسلہ اور ترسیلات کے سلسلے کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء کا اجلاس منعقد کرے گا، جس کے تحت چین-شنگھائی تعاون تنظیم بگ ڈیٹا کے تعاون کا مرکز تعمیر کیا جائے گا اور مشترکہ ترقی کیلئے ایک نیا محرک تشکیل دیا جائے گا۔ چینی صدر نے کہا کہ چین خلائی تحقیق کے شعبے میں تمام فریقین کے ساتھ تعاون اور زرعی ترقی، رابطے کی تعمیر، آفات میں کمی اور بحالی اور دیگر امور میں تمام ممبر ممالک کی مدد کیلئے تیار ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم پر عالمی امن و ترقی کی بھاری ذمہ داری  عائد ہوتی ہے ، چینی صدر

چینی صدر شی چن پھنگ نے ایس سی او کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ساتھ بین الاقوامی قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حفاظت کریں اور بنی نوع انسان کی مشترکہ اقدا کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گروہی سیاست ترک کردیں۔ ازبکستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ  تنظیم  کی جانب سے  اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کے درمیان  دوطرفہ تبادلوں کو وسعت دینا انتہائی ضروری ہے، تاکہ حقیقی کثیرالجہتی پر عمل ، عالمی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مشترکہ طور پر بین الاقوامی نظام کی ترقی کو زیادہ منصفانہ اور درست سمت میں فروغ دیا جاسکے۔ چینی صدر نے کہا کہ یوریشیائی براعظم میں امن و ترقی برقرار رکھنا خطے اور دنیا کے تمام ممالک کی مشترکہ خواہش ہے، جبکہ اس حوالے سے  شنگھائی تعاون تنظیم پر بھاری ذمہ داری  عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا  کہ تنظیم کی ترقی اور توسیع کے فروغ اور اس کے مثبت اثر و رسوخ کو  استعمال کرنے سے یوریشیائی براعظم اور دنیا میں پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کو برقرار رکھنے کیلئے نئی  جہت اور قوت حاصل ہوگی۔ چینی صدر نے کہا کہ چین یوریشیائی براعظم کے روشن مستقبل کیلئے   ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون مضبوط بنانے کیلئے اپنا مثبت اورتعمیری کردار جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔

چین کی معیشت  عالمی معیشت کی بحالی کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی ، چینی صدر

چینی صدر شی چن پھنگ نے کہا ہے کہ چین کی معیشت  لچکدار ہے اور  اس  کے طویل المدتی  بنیادی اصول تبدیل نہیں ہوں گے ۔ازبکستان میں 16 ستمبر کو منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے ہی چین نے وبائی امراض کی روک تھام کو  اقتصادی اور سماجی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے پر زور دیا ہے، جس سے نہ صرف عوام کی زندگی اور صحت کاتحفظ یقینی بنانے میں مدد حاصل ہوئی، بلکہ سماجی اور اقتصادی امور کو بھی مستحکم کیا گیا ہے۔ چینی صدر نے کہا کہ چین کی معیشت  عالمی معیشت کے استحکام اور بحالی کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی اوردیگر ممالک کیلئے مارکیٹ کے وسیع مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  جلد ہی کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی جانب سے 20ویں قومی عوامی کانگریس کاانعقاد کیاجائے گا، تاکہ چین کی اصلاحات اور ترقی کی اہم کامیابیوں اور قیمتی تجربات کو اجاگر کیا جاسکے اور نئے دور اور نئے سفر میں چین کے نصب العین کی ترقی کیلئے نئے تقاضوں کو پوری طرح سے سمجھا  جاسکے، جس کے تحت عوام کی نئی توقعات اور اقدامات کی تشکیل ممکن ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے  کی ترقی کیلئے اپنا مثبت اورتعمیری کردار جاری رکھے گا۔چینی صدر نے کہا چین کی ترقی سے    دنیا   کیلئے ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

یہ خبر پڑھیئے

عالمی معیشت میں بہتری میں چین کا نمایاں کردار: جانیئے تجزیہ کار مخدوم بابر کی زبانی

Show Buttons
Hide Buttons