دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا پاکستان کی اولین ترجیح ہے، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر

دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا پاکستان کی اولین ترجیح ہے، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر

وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا ہے کہ پاکستان پاکستانی عوام کے سماجی، اقتصادی اور دیگر حقوق کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تعمیری طور پر منسلک رہنے کا خواہاں ہے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے پاکستان میں پولینڈ کے سفیر ماچے پیسارسکی سے یہاں ملاقات میں کیا۔

اجلاس میں وفاقی سیکرٹری محمد صالح احمد فاروقی، ایڈیشنل سیکرٹری سید حامد علی اور جوائنٹ سیکرٹری عاطف عزیز نے بھی شرکت کی۔ملاقات کے دوران سید نوید قمر نے کہا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے، کیونکہ وہ تجارت اور رابطوں کے ذریعے اقتصادی ترقی پر توجہ دیتا ہے، دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت، تعلیم کے شعبے میں تعاون، پارلیمانی روابط سمیت دیگر شعبوں میں مثبت تعلقات جاری ہیں۔سید نوید قمر نے کہا کہ پولینڈ اپنی 80 فیصد توانائی کوئلے کے ذریعے پیدا کرتا ہے اور اس لیے پاکستان کو اس شعبے میں مدد فراہم کر سکتا ہے کیونکہ ملک میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، مارچ 2023 میں پاکستان اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیداوار کو دوگنا کر دے گا۔

سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے پر خوشی کا اظہار کیا کیونکہ پولینڈ یورپی یونین میں پاکستان کا ساتواں بڑا تجارتی پارٹنر بن گیا ہے اور مالی سال 22-2021 میں مجموعی دوطرفہ تجارت 506.6 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں توانائی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، گاڑیوں، مشینری، انجینئرنگ کے سامان، آئی ٹی، فارما، زراعت اور سیاحت کے میدان میں بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے، جس کو حقیقی معنوں میں بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے غیرملکی کرنسی کے ذخائر کو کنٹرول کرنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تمام کمرشل بینکوں کے تجارتی سیکشنز کے ذریعے نافذ کردہ تبدیلی کے بعد کچھ پولش کمپنیوں کو درپیش مسائل پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔اس پر وزیر نے اس سلسلے میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ پولش کمپنیوں کے تمام خدشات کو اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کے بعد فوری طور پر دور کیا جائے گا۔قبل ازیں سفیر نے سیلاب سے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر اظہار ہمدردی کیا اور نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں پولینڈ کی حکومت اور پولینڈ کی این جی اوز کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

یہ خبر پڑھیئے

یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس

مقامی وقت کے مطابق 8 تاریخ کو اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مشن کی …

Show Buttons
Hide Buttons