تازہ ترین

سپیکر قومی اسمبلی کا عرب ممالک پر مشتمل گروپ برائے آئی پی یو ممبر ممالک کے اعزاز میں استقبالیہ

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نےعرب ممالک پر مشتمل گروپ برائے آئی پی یو ممبر ممالک کے اعزاز میں جمعہ کو استقبالیہ دیا جس میں بحرین، عراق، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، فلسطین، متحدہ عرب امارات اور یمن کے سفارتکاروں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئےسپیکر نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے برادر عرب ممالک سے ملنے والی فراخدلانہ امداد کو سراہا اور کہا کہ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا تو عرب ممالک پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی تبائی کے لیے عالمی فنڈ کے قیام پر برادر عرب ممالک سے تعاون طلب کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تباہی کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک اور بڑی کمپنیاں ہیں۔ترقی یافتہ ممالک اور بڑی کمپنیوں کو کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے لیے موسمیاتی فنڈز جاری کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات آج پاکستان پر ہیں کل کسی دوسرے ملک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 سے 15 اکتوبر 2022 کو روانڈا میں 145ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے اس اجلاس میں عالمی ماحولیاتی فنڈ کی تجویز پیش کی ہے۔ہمیں برادر عرب ممالک سے آئی پی یو جنرل اسمبلی اجلاس میں عالمی فنڈ کے قیام کے لیے تعاون کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو ماحولیاتی سانحے کے نتیجے میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔سیلاب کی وجہ سے پاکستان پر آنے والی قدرتی آفت سے بیماریوں اور خوراک کے بحران کا خدشہ ہے۔سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی میں 30 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھا چکا ہے۔

عرب ممالک کی جانب سے رونڈا میں منعقد ہونے والی آئی پی یو کی جنرل اسمبلی اجلاس میں قومی اسمبلی آف پاکستان کے موقف کی تائید کے لیے تعاون درکار ہے۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی فنڈ کے قیام کے لیے سیکرٹری جنرل آئی پی یو کو خط ارسال کر رکھا ہے۔خط میں قومی اسمبلی آف پاکستان کی طرف سے عالمی فنڈ کے قیام کے لیے ہنگامی قرارداد کی منظوری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے ملک کے ساتھ انصاف پر مبنی تعاون کیا جائے۔

عرب گروپ نے پاکستان کے ساتھ پیش آنے والے سانحہ پر سپیکر قومی اسمبلی سے یکجہتی کا اظہار کیا اور انہوں نے عرب ممالک کی پاکستان کے ماحولیاتی انصاف کے مطالبے کی حمایت کے لیے اپنی متعلقہ حکومتوں اور پارلیمانوں کو پیغام پہنچانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت دنیا کا سب سے بڑے چیلنج ہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ترقی یافتہ خاص طور پر زیادہ آلودگی پھیلانے ممالک کو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ خصوصی تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی چیلنجر سے نبرد آزما ہونے کے لیے اجتماعی اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان تاریخ کے سب سے بڑے سانحہ سے گزر رہا ہے عرب ممالک کو پاکستانی عوام کے دکھ اور مشکلات کا ادراک ہے۔عرب ممالک اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

عالمی معیشت میں بہتری میں چین کا نمایاں کردار: جانیئے تجزیہ کار مخدوم بابر کی زبانی

Show Buttons
Hide Buttons