تازہ ترین

گندم اور یوریا/ڈی اے پی کے موجودہ ذخائر ملکی ضروریات کے لیے کافی ہیں، این ایف آر سی سی کو بریفنگ

نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر(این ایف آر سی سی) کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں گندم اور یوریا/ڈی اے پی کی کوئی قلت نہیں ہے ، موجودہ ذخائر ملکی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔

منگل کو این ایف آر سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات اور ڈپٹی چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال،نیشنل کوآرڈینیٹراین ایف آر سی سی لیفٹیننٹ جنرل محمد ظفر اقبال اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا ۔

این ایف آر سی سی کو بتایا گیا کہ ملک میں ربیع کی فصل کے لیے یوریا/ڈی اے پی وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ گندم کے ذخائر بھی ملکی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں یوریا/ڈی اے پی ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

سیکرٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں گندم کی کوئی کمی نہیں ہے اور موجودہ ذخیرہ ملکی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ اس وقت قومی سطح پر 6,215,327 میٹرک ٹن گندم کے ذخائر میں سے پنجاب کے پاس 3,067,435 میٹرک ٹن، سندھ میں 865,584 میٹرک ٹن، خیبر پختونخوا میں 96,282 میٹرک ٹن، بلوچستان میں 49,630 میٹرک ٹن اور پاسکو کے پاس 23630 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت کا تعین بیج، کھاد سمیت پیداواری لاگت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے تاکہ کاشتکاروں کو مناسب منافع مل سکے۔ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار نے فورم کو بتایا کہ ربیع کی فصل کے لیے یوریا/ڈی اے پی کی مطلوبہ مقدار ملک میں دستیاب ہے اور کسی قسم کی قلت نہیں ہے ۔ 300,000میٹرک ٹن کھاد کی درآمد کا ٹینڈر پہلے ہی زیر عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ربیع کی فصل کے لیے 3870,000 میٹرک ٹن کھاد مقامی طور پر تیار کی جائے گی جبکہ اس وقت کھاد کمپنیوں کے پاس بھی 374,479 میٹرک ٹن کے ذخائر موجود ہیں۔ڈپٹی چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال نے ہدایت کہ صوبائی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ کسانوں کو کھاد کی بروقت اور کم لاگت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام یوریا/ڈی اے پی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو ربیع کی فصلوں کے لیے گندم کے بیج کی فراہمی کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا، فورم نے صوبائی حکومتوں کو بیج کی فراہمی کے لیے تحصیل/تعلقہ کی سطح پر سہولتی مراکز کے قیام کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

یہ خبر پڑھیئے

عالمی معیشت میں بہتری میں چین کا نمایاں کردار: جانیئے تجزیہ کار مخدوم بابر کی زبانی

Show Buttons
Hide Buttons