تازہ ترین

بی جے پی کے رکن اسمبلی کی غنڈہ گردی؛ بس اسٹینڈ پر بنے گنبدوں کو ہٹا دیا

کرناٹک میں مودی سرکار کے رکن اسمبلی نے ایک بس اسٹاپ پر بنے اسٹینڈ پر گنبدوں کو گرانے کی دھمکی دیدی جس کے بعد تین میں سے دو کو گرا کر ایک گنبد پر لال رنگ کردیا۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک کے شہر میسور میں ایک بس اسٹاپ پر مسافروں کے لیے انتظار گاہ کی چھت پر تین گنبد بنائے گئے تھے اور تینوں پر گولڈن رنگ کیا گیا تھا تاہم جارحیت پسند بی جے پی کو یہ ایک آنکھ نہ بھایا۔ مودی سرکار کے کرناٹک کے رکن اسمبلی پرتاپ سمہا نے دھمکی دی کہ یہ بس اسٹینڈ نہیں ایک مسجد ہے۔ دور سے مسجد لگنے والے اس بس اسٹینڈ کو گرا دیں۔

رکن اسمبلی کی جانب سے مذہبی منافرت پر مبنی مہم چلانے اور اشتعال پھیلانے پر اس انتظار گاہ کو بنانے والی کمپنی نے تین میں دو گنبدوں کو ہٹا دیا اور درمیان والے ایک گنبد کو ایسے ہی رہنے دیا تاہم اس پر سرخ رنگ کردیا گیا۔ بی جے پی کے کرناٹک سے کن اسمبلی پرتاپ سمہا نے یہ بھی کہا تھا کہ انھوں نے اس بس اسٹاپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں اور ایسے گنبدوں والی کئی تعمیرات میسور میں بنائے جا رہے ہیں جنھیں روکنا ضروری ہے۔

دوسری جانب اس بس اسٹاپ کو تعمیر کروانے والے بی جے پی کے ہی مقامی اسمبلی کے رکن رام داس نے کہا کہ بس انتظار گاہ کا ڈیزائن میسور پیلس کی طرز پر بنایا گیا تھا۔ پہلے تو رام داس نے اپنے رکن اسمبلی کی دھمکی آمیز بیان کی تردید کی اور گنبدوں سے مزین بس انتظار گاہ کی تعمیر نو سے انکار کردیا تاہم بعد میں مقامی لوگوں سے ایک خط میں معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے بس اسٹاپ کو میسور کے ورثے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا تھا۔ رام داس نے مزید لکھاکہ اس تعمیر پر اختلاف رائے پیدا ہوا اسی لیےاب میں دو گنبد ہٹا رہا ہوں۔ اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔

خیال رہےکہ کرناٹک میں سب سے پہلے تعلیمی اداروں میں حجاب کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا اور اب دیگر ریاستیں بھی پابندیاں عائد کررہی ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

بلوچستان پولیس کی جانب سے نسیم شاہ کو پولیس کا اعزازی ڈی ایس پی بنا دیا گیا

بلوچستان پولیس کی جانب سے نسیم شاہ کو پولیس کا اعزازی ڈی ایس پی بنا دیا گیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو بلوچستان پولیس کا خیر سگالی سفیر …

Show Buttons
Hide Buttons