کرونا وائرس کی وباء اور چین کی عوام دوست پالیسی

(ماریہ عباسی)

2019 میں آنے والی کرونا کی وباء نے دنیا بھر میں جہاں صحت کے مسائل پیدا کئے، وہیں یہ وباء معاشی عدم استحکام اور دیگر مسائل کا باعث بھی بنی۔ چین وبائی صورتحال کے آغاز میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک تھا، جس کے پیش نظر ووہان شہر میں اس وباء کی روک تھام کیلئے بروقت مؤثر اقدامات اٹھائے گئے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں اس وباء کے حوالے سے آگاہی بہت کم تھی۔ چینی حکومت نے قرنطینہ اور لاک ڈاؤن کے ذریعے نہ صرف اپنے ملک میں کرونا کی وباء پر قابو پایا بلکہ اسے دیگر ممالک تک پھیلنے سے روکنے کیلئے بھی مختلف اقدامات اٹھائے۔

چین بعدازاں اس مہلک وباء کے تدارک کیلئے ویکسین تیار کرنے والے اولین ممالک میں شامل ہوا۔ قابل قدر بات یہ ہے کہ چین نے ویکسین اور وباء سے متعلق دیگر اشیاء افریقہ سمیت ترقی پذیر ممالک کو بھی عطیہ کیں۔ پاکستان میں بھی انسداد کرونا کے آلات اور ویکسین سب سے پہلے چین کی جانب سے فراہم کی گئی، جو ہمارے پیاروں کی جان بچانے کیلئے امید کی ایک کرن ثابت ہوئی۔

گزرتے وقت کے ساتھ جہاں دنیا کی سب سے بڑی آبادی کے حامل ملک میں کرونا کی وباء پر قابو پالیا گیا، وہیں امریکہ اور متعدد یورپی ممالک اس وباء کا مقابلہ کرنے میں ناکام نظر آئے۔ دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی ویکسینشن مکمل ہونے کے بعد موجودہ وقت میں سب سے اہم مسئلہ کرونا وائرس کی نئی اقسام کا مقا بلہ کرنا ہے۔

اس حوالے سے بھی چین نے سخت اقدامات اپناتے ہوئے دیگر ممالک سے چین آنے والی پروازوں اور چین سے دیگر ممالک میں جانے والی پروازوں کی تعداد میں کمی کر کے بہت حد تک قابو پایا۔ چین میں مقیم مقامی اور غیرملکی افراد نے چینی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے سفر میں کمی کی اور روزمرہ کے امور کی انجام دہی کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور ماسک استعمال کرنے کی پابندی کے علاوہ دیگر اصولوں پر عمل درآمد کیا۔

اس مشکل عرصے میں کرونا کی وباء پر قابو پانا یوں تو بیشتر ممالک کی اولین ترجیح رہی، تاہم چین نے دیگر ایسے اقدامات بھی اٹھائے جس سے ملک کی معیشت مستحکم رہی۔ سال 2020ء میں چین 2.3 فیصد کی معاشی نمو کے ساتھ ترقی کرنے والا واحد بڑا ملک بن گیا۔ گزشتہ دنوں چین میں کرونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے باعث متاثرہ افراد کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے چین نے ملک بھر میں عارضی ہسپتال قائم کیے ہیں۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کی مختلف آبادیوں میں مجموعی طور پر طبی صحت کے 349 مراکز کی جانب سے بخار کے کلینک قائم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بخار کی شدید علامات کے حامل افراد طبی صحت کے مراکز کی طرف سے قائم کی گئی ہاٹ لائن 120کو ڈائل کر کے مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔ چین کے قومی صحت کمیشن کے مطابق چین بھر میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 100 آئی سی یو بیڈ موجود ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ چین  نے اس بار کرونا کی وباء پر قابو پانے کیلئے طبی سہولیات میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کیلئے عائد مختلف پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد روزگار اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ چینی حکام کی جانب سے سیاحت کی بحالی کو تحریک دینے کیلئے بھی مختلف پالیسیوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے چین نہ صرف کرونا کی حالیہ لہر پر جلد قابو پا لے گا، بلکہ عوام کیلئے پابندیوں میں نرمی سے بہت سی سہولیات بھی میسر آئیں گی۔

یہ خبر پڑھیئے

شو: ٹرینڈ سیٹر

شو: ٹرینڈ سیٹر

Show Buttons
Hide Buttons