حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں نمایاں کمی ہوئی اور اس میں نمایاں بہتری آرہی ہے، وزارت خزانہ

حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں نمایاں کمی ہوئی اور اس میں نمایاں بہتری آرہی ہے، وزارت خزانہ

وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ جاری مالی سال میں پاکستان کی معیشت نے اندرونی اوربیرونی چیلنجوں کے حوالہ سے لچک کامظاہرہ کیاہے، افراط زرکے دبائو کے باوجودتجارتی اورحسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں نمایاں کمی ہوئی اوراس میں نمایاں بہتری آرہی ہے جو مالیاتی چیلنجوں کامقابلہ کرنے کیلئے ریلیف کامظہرہے، حالیہ بدترین سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ریلیف دینے کے مشکل ترین چیلنج کے باجود مالیاتی استحکام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،کم شرح نمو، زرمبادلہ کم ذخائر، اوربلند افراط زر پالیسی سازوں کیلئے ایک چیلنج ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق قلیل المعیاد بنیادوں پر افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اورپائیدارنموکی یقینی بنانے کیلئے سٹیٹ بینک اورحکومت نے طلب کے انتظام وانصرام سے متعلق پالیسیاں تشکیل دی ہیں ۔ طویل المعیاد بنیادوں پرحکومت رسد میں تیزی لانا چاہتی ہے تاکہ معیشت میں نموکی استعداد سے فائدہ اٹھایا جاسکے ۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہی گئی ہے ۔ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق عالمی سطح پرمعاشی سست روی کی وجہ سے جاری مالی سال کے پہلے5 ماہ میں ترسیلات زرمیں 9.6 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی ۔

جولائی سے لیکرنومبرتک کی مدت میں ترسیلات زرکاحجم 12 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 13.3 ارب ڈالرتھا، ملکی برآمدات میں اس مدت کے دوران سالانہ بنیادوں پر2 فیصدکی کمی ہوئی، جولائی سے نومبر2022 تک کی مدت میں 12.1 ارب ڈالرمالیت کی برآمدات ریکارڈکی گئیں جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 12.3 ارب ڈالرتھیں،

اس مدت میں ملکی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر16.2 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی، جولائی سے نومبرتک کی مدت میں 24.9 ارب ڈالرمالیت کی درآمدات ہوئیں جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 29.7 ارب ڈالر تھیں۔اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر57.2 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی ہے، جولائی سے نومبرتک کی مدت میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ3.1 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 7.2 ارب ڈالرتھا، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں جاری مالی سال کے دوران سالانہ بنیادوں پر51.4 فیصدکی کمی جبکہ مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری میں 28.6 فیصدکی کمی ہوئی ہے ۔

وزارت خزانہ کے مطابق 28 دسمبر2022 کوسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 5.882 ارب ڈالرتھا جوگزشتہ سال 28 دسمبرکو 6.435 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا، 28 دسمبر2022 کو ایکسچینج ریٹ 226.37 روپے تھا جوگزشتہ سال کی اسی تاریخ کو178.19 روپے ریکارڈکیاگیاتھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں ایف بی آرکے محاصل میں سالانہ بنیادوں پر15.9 فیصدکی نموہوئی ہے۔

جولائی سے نومبرتک کی مدت میں ایف بی آر نے 2688 ارب روپے کی محصولات اکھٹاکیں جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2319 ارب روپے تھی، اس کے برعکس نان ٹیکس ریونیومیں 23.4 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی، جولائی سے نومبرتک کی مدت میں نان ٹیکس ریونیوکی مدمیں 346 ارب روپے اکھٹاکئے گئے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 452ارب روپے تھے۔سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام بشمول صوبوں کوگرانٹس کی فراہمی میں جولائی سے اکتوبرتک کی مدت میں سالانہ بنیادوں پر52.9 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی،

اس مدت میں سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام بشمول صوبوں کوگرانٹس کی فراہمی کاحجم 98 ارب روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 207 ارب روپے تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 4ماہ میں مالیاتی خسارہ 1266 ارب روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 587 ارب روپے تھا۔ پرایمری بیلنس کاحجم 136 ارب روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 206 ارب روپے تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں زرعی شعبہ کوقرضہ جات کی فراہمی میں سالانہ بنیادوں پر35.9 فیصدکی نموریکارڈکی گئی، اس مدت میں زرعی شعبہ کو 663.9 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 488.5 ملین روپے تھے، نجی شعبہ کوقرضہ جات کی فراہمی میں جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر80.2 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی،

اس مدت میں نجی شعبہ کو 90 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 454.3 ارب روپے تھے۔25 نومبر2022 کو پالیسی ریٹ کی شرح 16 فیصدتھی جوگزشتہ سال 19 نومبرکو8.75 روپے ریکارڈتھی۔جولائی سے لیکرنومبرتک کی مدت میں صارفین کیلئے قیمتوں کااشاریہ(سی پی آئی) 25.1 فیصدریکارڈکیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9.3 فیصدتھا۔جولائی سے اکتوبرتک کی مدت میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں سالانہ بنیادوں پر2.9 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی۔ اعدادوشمارکے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج کے انڈکس میں جاری مالی سال کے دوران مجموعی طورپر5.6 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی، یکم جولائی کو کے ایس ای 100 انڈکس 41630 پوائنٹس تھا جو 28 دسمبرکو 39279پوائنٹس ریکارڈکیاگیا۔مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 18 فیصدکی کمی ہوئی، یکم جولائی 2022 کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 27.86 ارب ڈالرتھا جو یکم جولائی 2022 کو 33.99 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکرنومبرتک کی مدت میں نئی کمپنیوںکی شمولیت کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر8.9 فیصدکی نموریکارڈکی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق دیگرکئی ممالک کی طرح پاکستان میں اقتصادی سرگرمیاں استعدادکے مطابق کم ہیں جس سے پیداوی عمل پرمنفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اسی کے ساتھ ساتھ دیگرممالک کی طرح پاکستان میں بھی افراط زرکی شرح ہدف سے زیادہ ہے، عالمی سطح پرتوانائی کے بحران نے ضروری اشیاء کی قیمتوں پر اثرات مرتب کئے ہیں جس نے عالمی سطح پرزرمبادلہ کے سرکاری ذخائرکومتاثرکیاہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں پاکستان کی معیشت نے اندرونی اوربیرونی چیلنجوں کے حوالہ سے لچک کامظاہرہ کیاہے، افراط زرکے دبائو کے باوجودتجارتی خسارہ اورحسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں نمایاں کمی ہوئی اوراس میں نمایاں بہتری آرہی ہے جو مالیاتی چیلنجوں کامقابلہ کرنے کیلئے ریلیف کامظہرہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ بدترین سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ریلیف دینے کے مشکل ترین چیلنج کے باجود مالیاتی استحکام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ بدترین سیلاب اوراس سے قومی معیشت کو30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہونے کے تناظرمیں مالی سال 2023 میں اقتصادی نموبجٹ اہداف سے کم ہونے کی توقع ہے۔ اسی پس منظرمیں کم شرح نمو، زرمبادلہ کم ذخائر، اوربلند افراط زر پالیسی سازوں کیلئے ایک چیلنج ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق قلیل المعیاد بنیادوں پر افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اورپائیدارنموکی یقینی بنانے کیلئے سٹیٹ بینک اورحکومت نے طلب کے انتظام وانصرام سے متعلق پالیسیاں تشکیل دی ہیں ۔ طویل المعیاد بنیادوں پرحکومت رسد میں تیزی لانا چاہتی ہے تاکہ معیشت میں نموکی استعداد سے فائدہ اٹھایا جاسکے ، نئی سرمایہ کاری کوفروغ دیکر روزگارکے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جاسکے جس سے مجموعی پیداواری عمل پرمثبت 

یہ خبر پڑھیئے

شو: ٹرینڈ سیٹر

شو: ٹرینڈ سیٹر

Show Buttons
Hide Buttons