دنیا ناقابل تلافی تباہی کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، نوم چومسکی

دنیا کے نامور فلسفی اور ماہر لسانیات نوم چومسکی نے خبردار کیا ہے کہ جوہری جنگ کے خطرے، ماحولیاتی بربادی اور منطقی انداز سے مسائل کو حل کرنے کی زوال کا شکار ہوتی صلاحیت کی وجہ سے دنیا ناقابلِ تلافی تباہی کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔

 یونیورسٹی آف ایریزونا میں تاحیات معلم کے عہدے پر ’’لاریئٹ پروفیسر‘‘ کام کرنے والے معمر فلسفی نوم چومسکی نے ایک انٹرویو میں کہاکہ حالیہ برسوں میں تباہی کا پیمانہ جانچنے کیلئے بنائی گئی گھڑی ’’ڈوُمس ڈے کلاک‘‘ بربادی کیلئے مقرر کیے گئے پوائنٹ کے قریب پہنچ چکا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی نسل کشی پر آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ممکن ہے کہ یہ انسان بربادی کے اس نقطے کے مزید قریب ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کیلئے اس وقت سب سے زیادہ باعث تشویش بات جوہری جنگ کا منڈلاتا ہوا خطرہ ہے اور ساتھ ہی ماحولیاتی نظام کی تباہی بھی سنگین معاملہ ہے۔ آخر الذکر مسئلے کے حوالے سے تو صورتحال اس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے کہ دنیا کے ممالک جانتے ہوئے بھی اس بحران سے نمٹنے کیلئے کچھ نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں میں مسائل کو منطقی انداز سے حل کرنے کی صلاحیت زوال پذیر ہو رہی ہے، جمہوری قوتیں کم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مذکورہ دونوں مسائل سے حل کیلئے ضروری ہے کہ مسائل کو منطقی انداز سے حل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ نوم چومسکی کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب سابق روسی صدر دیمیتری میدیدوف نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایک روایتی جنگ میں اگر جوہری طاقت کا حامل ملک ہار گیا تو اس سے جوہری جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

روس کا خیال ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین کو روس کیخلاف ایک پراکسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، روس نے متعدد مرتبہ یہ بھی کہا ہے کہ جوہری جنگ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ روس سمجھتا ہے کہ یہ ہتھیار وہ صرف اسی صورت استعمال کرے گا جب اسے لگے گا کہ ریاست کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

شاہین شاہ آفریدی کل نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے

شاہین شاہ آفریدی کل نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کل نکاح کے بندھن میں …

Show Buttons
Hide Buttons