این ڈی ایم اے اور عالمی بنک کا پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے باہمی تعاون کا فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور عالمی بنک نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے باہمی تعاون کا فریم ورک تیار کرنے کے لیے ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ورلڈ بینک کی ٹیم کی منگل کو یہاں ملاقات میں حالیہ سیلاب کے پیش نظر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کے مختلف شعبوں اورآفات کے خطرے سے دوچار خطوں کے تحفظ اور اس کے تدارک کے لیے موئثر حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی نیشنل ایمرجنسز آپریشنز سینٹر کو این ڈی ایم اے کے ایک اہم فورم کے طور پرفعال کرنے کے عزم کا اظہار کیا جس کے ذریعے آفات کی قبل از وقت آگاہی، انتباہی نظام اور احتیاطی تدابیر سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے اور متعلقہ اداروں و عوام میں آگاہی، تیاری اور پیشگی رسپانس کے ساتھ ساتھ فرضی مشقوں کے لیے مدد ملے گی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے ٹیم کوآگاہ کیا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این آئی ڈی ایم) کو ہنگامی صورتحال کے حوالے سے ایک قومی تھنک ٹینک کے طور پر تشکیل دے رہے ہیں جس کے تحت قومی یونیورسٹیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرے کے پیش نظر تحقیق اور مطالعہ کے لیے ایک پلیٹ فارم کی تشکیل بھی کی جائے گی۔

پاکستان میں انہوں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے شعبہ سے منسلک افراد اور رضاکاروں کے لیے تربیتی پروگرامز کے انعقاد کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیٹا بیس کی دیکھ بھال پر زور دیا تاکہ ہنگامی حالات میں ان کی خدمات کو یقینی بنائیں۔ملاقات میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے باہمی تعاون کا فریم ورک تیار کرنے کے لیے این ڈی ایم اے اور ورلڈ بینک کا ایک ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا گیا ۔

یہ خبر پڑھیئے

شو: ٹرینڈ سیٹر

شو: ٹرینڈ سیٹر

Show Buttons
Hide Buttons