تازہ ترین

کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ چین کے لوگوں کو ڈکٹیٹ کرسکے، چینی صدر شی چن پھنگ!

چین کے صدر شی چن پھنگ کا کہنا ہے کہ چین کو کسی بھی ملک سے خطرہ نہیں اور نہ کوئی ملک چین کو اپنی مرضی کے مطابق دھکیل سکتا ہے۔ صدر شی نے کہا کہ کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ چین کے لوگوں کو یہ ڈکٹیٹ کرائے کہ انہیں کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں کرنا چاہیئے۔

اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کی 40 ویں سالگرہ کی یاد گار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی چن پھنگ نے پر زور الفاظ میں کہا کہ ہمیں ایک چین کے اصول اور انیس سو ننانوے میں طے شدہ اتفاق رائے پر عملدرآمد جاری رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان باہمی تعلقات کو پرامن ترقی کی بنیاد پر فروغ دیا جانا چاہیئے، تا کہ دونوں کناروں کے عوام اس سے استفادہ کرسکیں۔ صدر شی نے کہا کہ ہم نئے دور میں چینی قوم کی نئی اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز تخلیق کریں گے، جو دنیا کو واقعی متاثر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی ایسا تاریخی پروگرام ہے جس نے ایک غریب ملک کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں بدل دیا ہے۔ صدر شی نے کہا کہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے چین کے پاس مضبوط سیاسی عزم اور اصلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے واضع الفاظ میں کہا کہ چین کی سر زمین نا قابل تقسیم ہے۔ صدر شی نے کہا کہ چین دنیا بھر سے الگ ہو کر تنہا ترقی نہیں کر سکتا، اور دنیا کو عالمی خوشحالی کے لئے چین کی ضرورت ہے۔ صدر شی نے کہا کہ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ چین کو اندرونی اور بین الاقوامی امتیاز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم کھلے پن کی قومی پالیسی پر عملدر آمد جاری رکھیں گے۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی بھائی چارہ کا عالمی دن منایا جارہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی بھائی چارہ کا عالمی دن منایا جارہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی بھائی چارہ کاعالمی دن منایا جارہا ہے۔ آج کے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons