تہذیب

امریکی سیاستدان کا بیان غیر شائستہ اور تہذیب کے دائرے سے باہر ہے …

امریکہ کے ریاستی محکمہ برائے پالیسی و منصوبہ بندی کی سربراہ کرون سکینر نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تصادم ‘مختلف تہذیبوں اورنظریوں کے درمیان جنگ” ہے۔ دانشوروں کی بڑی تعداد نے اس بیان کے حوالے سےاظہار خیال کرتے اسےتماشا لگانے اور تہذیب و تمدن کو بدنام کرنے کے مترادف قراردیا ہے ۔

سکینر کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ ایک بڑا غیر سفید فام ملک ہمارے مقابل آگیاہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سرد جنگ کے دوران دو سفید فام ملک امریکہ اور سابق سویت یونین ایک دوسرے کے خلاف صف آراتھے تاہم اس وقت سفید فام ملک امریکہ اور غیر سفید فام ملک چین کے درمیان جنگ ہے۔ سکینر کا یہ بیان انتہائی خطرناک ہے۔ امریکی سیاستدانوں کی بڑی تعدادنے فوری ردعمل دیتے ہوئےسکینر کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ نسلی امتیاز کے بارے میں امریکہ محتاط رویہ رکھتا ہے۔ سکینر کا بیان “تہذیب” پر “بربریت” کے حملے کے مترادف ہے- دراصل سکینر کے بیان سے متعدد امریکیوں کے خیالات کا اظہار ہوا ہے ، یہ وہی “سرد جنگ کا تصور” اور “ثقافتی بالادستی” کی باتیں ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ امریکی ریاستی ڈپارٹمنٹ “ایک مختلف تہذیب و تمدن کے خلاف لڑائی” کے تصور کے طور پر چین کے لیےاپنی پالیسی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم ایسے غلط تصور کی بنیاد پر بنائی جانے والی حکمت عملی یقیناً ناکام ہو گی۔

یہ خبر پڑھیئے

برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے افسران کا ہڑتال کا اعلان

برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے دو ہزار افسران نے تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons